Qadyani Non Muslim قادیانی کافر ہیں

قادیانی کل بھی کافر تھے اور آج بھی کافر ہیں اور جب تک نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آخری نبی اور رسول  نہیں مان لیتے اس وقت تک کافر رہیں گئے ۔اور اس کے ساتھ آپ کے علم میں ایک بات لاتا جاوں کہ آج مورخہ 29اپریل 2020اس وقت کی حکومت پاکستان نے ایک اعلان کیا جس میں انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو بھی اقلیت کی بنا پر پارلیمنٹ میں چند سیٹیں دی جائیں گی جس کی بنا پر وہ ائیندہ الیکشن بھی لر سکتے ہیں اور ان کو مکمل اقلیتی حق ملے گا جو پاکستان کہ قوانین کے مطابق ہیں ۔تو سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قادیانی اپنے اآپ کو کافر تسلیم کریں گے اگر تو وہ اپنے آپ کو کافر تسلیم کر لیتے ہیں اور آئیندہ کبھی اپنے ساتھ احمدی مسلم نہیں لگاتے تو یہ ایک بہت ہی اچھا قدم ہو گا اس حکومت کا ان کو کافر کے ساتھ ساتھج اقلیت میں شمار کرنے کا جس پر ہم خراج تحسین پیش کریں گے لیکن ایک بات اور یاد رکھتے جائیں قادیانیو نے بہت سے ممالک میں احمدی مسلم کے نام سے اپنا نیٹ ورک پھیلایا ہوا ہے اس فیتنے گا لہذا کیا وہ ان ممالک میں کی ہوئی محنت ضائع کر دیں گے تو اس پر میرے ساتھ آپ سب کا بھی ایک ہی جواب ہو گا کہ کبھی نہیں کر سکتے کیوں کہ اگر وہ اپنے اس فیتنہ کو ختم کرنا چاہتے تو بھٹو شہید کے دور میں پارلیمنٹ کی سیٹیں قبول کرنے کے بعد پاکستان کی دوسری اقلیتی لوگوں کے ساتھ اپنا مکمل حق حصل کر چکے ہوتے لیکن انہوں نے یہ نہیں کیا اور اپنے اس فیتنے کو مزید تقویت دینے کے لیے باقی ملکوں کا رخ کیا اور اپنے نیٹ ورک کو مظبوط کرنے کے لیے احمدی مسلم کے نام سے سرگرمیاں بڑھا دی اور پاکستان میں مختلف ادوار میں اپنے لیے رستہ ہموار کرنے کی مکمل کوشش کرتے رہے ہیں لیکن پاکستان کے مسلمان جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سر شار تھے متحد ہو کر ان کی ہر چال کو ناکام بناتے رہے اور آج بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جب سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ان کو پارلیمنٹ میں لانے کی بات کی ہے قوم میں غم وغصہ کی لہر سرگرم ہے لہذا باقی حکومتوں کی طرح اس حکومت کو بھی قادیانیو کے دباو میں نہیں آنا چائے کیوں کہ یہ ایک ایسا مسلہ ہے جس پر ہر مسلمان پاکستانی اپنے جان مال کی پروا کیا بنا جان کا نذرنہ پیش کرنے کے لیے تیار ہے اور آج قوم پہلے کرونا جیسی وبا سے پریشان ہے اور اس خبر کے بعد اس کرونا وائرس جیسی وبا کو کنٹرول کرنا حکومت وقت کے لیے بہت ہی مشکل ہو جائے گا کیوں کہ لوگوں نے پھر کتم نبوت کے لیے گھروں سے جان کی پروا کیے بنا نکل آنا ہے اور پھر اس سمندر کو کنٹرول کرنا حکومت وقت کے ہاتھوں میں نیں رہے گا تو آکر میں اللہ سے یہی دعا ہے کہ وہ ہمیں حضور صلہ اللہ علیہ والہ وسلم سے سچی محبت نصیب فرمائے اور اس کرونا جیسی وباء سے جلد نجات عطا فرمائے --آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا گو۔۔ملک اعوان
  دعا گو۔۔ملک اعوان

0 comments: